پاکستان کے صوبہ بلوچستان کا صدر مقام اور سب سے بڑا شہر ہے۔ کوئٹہ کا نام ایک پشتو لفظ سے نکلا ہے جس کے لغوی معنیٰ 'قلعہ' کے ہیں۔ کوئٹہ شہر سطح سمندر سے تقریباً 1700 میٹر سے 1900 میٹر کی بلندی پر واقع ہے اور اپنے بہترین معیار کے پھلوں کی پیداوار کے لیے مشہور ہے۔ یہ بنیادی طور پر خشک پہاڑوں میں گھرا ہوا شہر ہے جہاں سردیوں میں شدید سردی اور برف باری ہوتی ہے۔
لوگ کہتے ہیں پولیس کر ہی کیا رہی ہے محض رشوت لینے کے علاؤہ؟ افسوس کے ساتھ ہمارے معاشرے میں جب پولیس کا نام لیا جائے تو اکثر لوگ تلخیہ مسکراہٹ کے ساتھ کہتے ہیں "رشوت خور" اور یہ وہی لوگ ہیں جو مشکل پڑھنے پر فوراً ون فائیو "15" کو کال ملاتے ہیں۔
آخر کیوں ہم ان ایماندار لوگوں کی قربانیوں کو نظر انداز کردیتے ہیں؟ آخر کیوں ہمارے معاشرے میں جو غلط ہو ہم صرف اس کو ایکسپوز نہیں کرتے بلکہ ہم پورے ڈیپارٹمنٹ پر انگلیاں اٹھانے لگ جاتے ہیں۔
سچ بات تو یہ ہے پولیس ہمارے آرام و سکون کی خاطر کل بھی ہمارے شانہ بشانہ کھڑی تھی آج بھی کھڑی ہے اور ہمیشہ کھڑی رہے گی۔۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے بہت سے پولیس کے جانباز محافظ ایسے ہیں جنہوں نے وطن کے دفاع کی خاطر اپنے خون کا آخری قطرہ بھی اپنے وطن پر قربان کردیا۔
میری ماں عظیم ماں مجھ سے لپٹ کر رونا نہیں
کہ شہید کی مائیں رویا نہیں کرتیں۔
میری ماں عظیم ماں مجھ سے #بچھڑنے کے غم میں رونا نہیں
کہ شہید بچھڑا نہیں کرتے
شہید مرا نہیں کرتے
شہید تو ہمیشہ زندہ رہتے ہیں ۔
میری ماں عظیم ماں۔
مجھ پر قرض تھا،شہداء کے لہو لہو کا
مجھ پر ارض فرض کی حفاظت کا فرض تھا
میری ماں عظیم ماں
تو رونا نہیں کے شہید کی مائیں رویا نہیں کرتیں۔
یوں تو سنانے کو ہزاروں درد بھری داستانیں ہیں مگر کیا آپ کو معلوم ہے ؟ گذشتہ دنوں
صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سریاب کی مشرقی علاقہ کلی براھوی آباد میں ایک دلخرش واقع رونما ہوا ایک گھر میں معصوم چار بچوں کو تیز دھار آلے سے ان کی گلا کاٹ دیا گیا تھا جسکی جتنے مذمت کی جائے کم ہیں۔ تمام اہل علاقہ نے اظہار افسوس اور مذمت کی نیو سریاب تھانے میں والدین کی مدیت میں ایف آئی آر درج کیا گیا سریاب پولیس کے ایس،ایچ او حاجی عبدالحئی صاحب نے اپنی ٹیم کے ہمراہ تفتیش شروع کی اور بل آخر کچھ روز بعد قاتل کو ضلع سبی کے علاقے سے گرفتار کر لیا یہ پولیس کی کارکردگی کا بہترین مظاہرہ تھا جس پر اہل علاقہ نے خوش کا اظہار کرتے ہوئے مذکورہ تھانے کی ایس ایچ او جناب حاجی عبدالحئی بنگلزئی صاحب کو پھولوں کے ھار پہنے گئے جو کہ قابل دید منظر تھا اور جناب ایس ایچ او نیو سریاب حاجی عبدالحئی بنگلزئی صاحب کی کاوشوں اور ضرض شناسی نے پہلی دفعہ عوام اور پولیس کی مابین دوری کو ختم کرنے میں معاون ثابت ہو ئی ۔ پولیس اگر اسی طرح فرض شناسی کا مظاہرہ کرتی رہی تو عوام کا پولیس پر اعتماد بحال ھونے میں دیر نہیں لگے گی۔ محکمہ پولیس میں اچھے آفیسران کی اچھی کارکردگی کا بھی تذکرہ ضرور کرنا چاہیے اور جو کرپٹ اور عوامی مفاد میں کام نہیں کررہے ان پر تنقید کرنا بھی ہمارا فرض ہے مگر پوری محکمہ پولیس کو کرپٹ اور رشوت خور کہنا میرے نزدیک درست نہیں۔ اعلی کارکردگی کا مظاہرہ دکھانے والے تمام محافظوں کی حوصلہ افزائی ضروری ہے۔
اگر آپ نے پھر بھی محافظوں کی ان قربانیوں کو نظر انداز کرنا ہے اور پولیس کو رشوت خور ہی کہنا ہے تو یہ زیادتی ھے لیکن یہ حقیقت ھے اور ھم سب جانتے ہیں ہم اپنے گھروں میں سکون سے بیٹھیں ہیں تو ان محافظوں کی وجہ سے ہی۔ہمارے محافظ ہیں تو ہم ہیں۔اور میں اپنے تمام محافظوں کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں
اللہ ہمارے وطن کے ہر محافظ کو اپنے حفظ و آمان میں رکھے۔ اور کم سوچ رکھنے والے کم ظرفوں کو ھدایت دے
Comments